انتظار کا آخری پہر
کل رات میں صبح کے چار بجے سویا۔
اس لیے نہیں کہ نیند نہیں آ رہی تھی،
بلکہ اس لیے کہ نیند آنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
رات کافی پہلے ختم ہو چکی تھی۔
بس صبح ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔
میں کھڑکی کے پاس بیٹھا شہر کو دیکھتا رہا۔ چند کھڑکیوں میں اب بھی روشنیاں تھیں۔ میں سوچ رہا تھا، ان روشنیوں کے پیچھے کون جاگ رہا ہوگا؟
کوئی کسی کے انتظار میں،
کوئی کسی کی یاد میں،
اور شاید کوئی میری طرح—بلا وجہ۔
فون میز پر الٹا پڑا تھا۔
کسی کے پیغام کا انتظار نہیں تھا، پھر بھی کبھی کبھی اسے اٹھا کر دیکھ لیتا۔
عجیب عادت ہے انسان کی۔
جن دروازوں سے کسی کے آنے کی امید نہ ہو، انہیں بھی بار بار دیکھتا رہتا ہے۔
چار بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔
میں نے پردہ کھینچا، فون ایک طرف رکھا اور بستر پر لیٹ گیا۔
نیند آ گئی۔
شاید اس لیے نہیں کہ رات ختم ہو گئی تھی—
بلکہ اس لیے کہ انتظار ختم ہو گیا تھا۔